حکومت شوگر پالیسی بنانے میں نا کام ہوچکی،

حکومت شوگر پالیسی بنانے میں نا کام ہوچکی،پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا وزیر خزانہ کی جانب سے چینی کی قیمتوں بارے تحقیقات بارے بیان پر اظہار افسوس

لاہور (آن لائن) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے وزیر خزانہ کی جانب سے چینی کی قیمتوں بارے تحقیقات سے متعلق بیان پر شدید افسو س کا اظہار کیاہے اور کہا ہے کہ وزیر خزانہ کو کوئی بھی بیان دینے سے پہلے پی ایس ایم اے سے پیداواری لاگت کے بارے میں پوچھ لینا چاہیئے تھا ، حکومت شوگر پالیسی بنانے میں نا کام ہوچکی ہے۔


پی ایس ایم اے کے ترجمان نے کہ اہے کہ حکومت چینی کی برآمد کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جبکہ اس وقت مارکیٹ میں چینی کی بھرمار ہے، جس کی وجہ سے قیمت  گر چکی ہے ،دوسری جانب  انٹرنیشنل مارکیٹ میں اس وقت شوگر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے صرف4لاکھ ٹن برآمد کی اجازت دی ہے جبکہ اس وقت 12لاکھ ٹن اضافی چینی موجود ہے جس سے قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ ترجمان پی ایس ایم اے نے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ چینی کی فی کلو قیمت60روپے مقرر کی ہے اور اس کی قیمت66روپے ہونی چاہیئے جبکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ گنے کی قیمت صوبائی حکومت مقرر کرتی ہے لیکن چینی کی قیمت کو مارکیٹ فورس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ترجمان پی ایس ایم اے نے کہا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں چینی کی بھرمار ہے جس کی وجہ سے انڈسٹری کے لئے مزید شوگر سپلائی کرنا ناممکن ہے،  حکومت برآمدات کے لئے اصلاحی اقدامات کرے بصورت دیگر شوگر انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی اور کسانوں کو گنے کی قیمتیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔
Tag : World Update
0 Leave A Reply "حکومت شوگر پالیسی بنانے میں نا کام ہوچکی،"

Back To Top